خاموشیاں
خاموشیاں
آواز ہیں
تم سننے تو آؤ کبھی
چھو کر تمیں کھِل جائیں گی
گھر ان کو بلاؤ کبھی
بے قرار ہیں بات کرنے کو
کہنے دو ان کو ذرا
خاموشیاں، تیری میری خاموشیاں !
کیا اس گلی میں کبھی تیرا جانا ہوا
جہاں سے زمانے کو گزرے زمانہ ہوا
میرا سمئے تو وہیں پہ ہے ٹھہرا ہوا
بتاؤں تمہیں کیا ، میرے ساتھ کیا کیا ہوا
خاموشیاں اک ساز ہیں
تم دھن کوئی لاؤ ذرا
خاموشیاں الفاظ ہیں
کبھی آ گنگنا لے ذرا
بے قرار ہیں بات کرنے کو
کہنے دو ان کو ذرا
خاموشیاں، تیری میری خاموشیاں !
ندیا کا پانی بھی خاموش بہتا یہاں
کھِلی چاندنی میں چھپی لاکھ خاموشیاں
بارش کی بوندوں کی ہوتی کہاں ہے زباں
سلگتے دِلوں میں ہے خاموش اٹھتا دھواں
خاموشیاں
آکاش ہیں
تم اڑنے تو آؤ ذرا
خاموشیاں
احساس ہیں
تمہیں محسوس ہوتی ہیں کیا
بے قرار ہیں بات کرنے کو
کہنے دو ان کو ذرا
خاموشیاں، تیری میری خاموشیاں !
Comments
Post a Comment